گندہ ہے پر دھندہ ہے ۔۔۔!!!امریکی صدر ٹرمپ مختلف ممالک کے سربراہان سے فون پر کیا باتیں کرتے ہیں؟ امریکی صدر کا سر شرم سے جھکا دینے والی کال لیک ہوگئی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) واٹرگیٹ سکینڈل دنیا کے سامنے لانے اور حکومتیں گرانے والے لیجنڈ صحافی کارل برنسٹین اب صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹکر میں آ گئے ہیں اور ان کے متعلق چشم کشا انکشافات کر دیئے ہیں۔ سی این این پر شائع ہونے والی کارل برنسٹین کی رپورٹ میں انہوں نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ غیرملکی لیڈروں

کے ساتھ گفتگو میں اپنی ذاتی دولت اور کامیابی کی نمودونمائش کرتے اور سابق صدور باراک اوباما اور جارج بش کو احمق اور کمزور صدور قرار دے کر اپنا قد بڑھانے کی باقاعدگی کے ساتھ کوشش کرتے ہیں۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ صدر ٹرمپ کی جب بھی بات ہوئی وہ ان کی خوشامد کرکے ہر ممکن ان کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی عالمی لیڈروں کے برعکس صدر پیوٹن سے بات کرتے ہوئے ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہوتا ہے۔کارل برنسٹین نے صدر ٹرمپ کی غیرملکی لیڈروں کے ساتھ فون کالز کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے مہینوں مختلف ممالک میں اپنے ذرائع سے بات کی اور اب صدر ٹرمپ کی کالز کے متعلق یہ انکشافات کیے ہیں۔ کارل برنسٹین بتاتے ہیں کہ صدر ٹرمپ خواتین عالمی لیڈروں کے ساتھ فون کالز میں ہتک آمیز سلوک بھی کرتے آئے ہیں۔ ایک بار انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے ساتھ فون کال میں انہیں کمزور کہہ دیااور کہا کہ ”تم بہت کم حوصلہ خاتون ہو۔“ ایک اور کال میں صدر ٹرمپ نے تھریسامے کو بے وقوف کہہ دیا تھا اور کہا تھا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے معاملے پر تھریسا مے کا موقف کم ہمتی پر مبنی ہے۔ان کی ایسی ہتک آمیز گفتگو ک جواب میں تھریسامے بہت نروس ہو جاتی تھیں۔کال برنسٹین اس چشم کشا رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار جرمن لیڈر انجیلا مرکل کے ساتھ فون کال میں ان کے منہ پر انہیں احمق کہہ ڈالا تھا۔جرمن حکام صدر ٹرمپ کی فون کالز کو ’انتہائی جارحانہ‘ قرار دیتے ہیں۔ ایک بارجرمنی کے ذمہ نیٹو کی واجب الادا رقم کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے انجیلا مرکل کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کے ساتھ بات کی۔ تاہم ذرائع کے مطابق تھریسامے کے برعکس انجیلا مرکل صدر ٹرمپ کے ایسے روئیے پر پرسکون اور پراعتماد رہتی تھیں۔ انجیلا مرکل کے ساتھ ان کی کالز ایسی نوعیت کی تھیں کہ جرمن حکام نے ان کالز کو خفیہ رکھنے کے لیے معمول سے زیادہ کڑے اقدامات کیے۔

source: hassannisar.pk

50% LikesVS
50% Dislikes